Jafar Ali Jafar is an MPhil Scholar (History), and a well-known Punjabi & Urdu Poet.
اِک سیلِ آبِ دَرد ہے، ٹھہرا کبھی نہیں
اِک اشک، مِثلِ سنگ، روانہ کبھی نہیں
مَیں شاخِ خشک سال ہوں، کیکَر کے پیڑ کی
مُجھ پر تھکا عُقاب بھی بیٹھا کبھی نہیں
مَیں ڈھل گیا ہوں شامِ تَذبذُب کے رنگ میں
و ہ پَیکَرِ جَمال بھی اُبھرا کبھی نہیں
ہے نغمۂ حَیات بھی شورِ شکستگاں
جو محوِ رَقص ہے، وہ یہ سَمَجھا کبھی نہیں
مَیں دَلدَلِ حَیات کا سوکھا ہوا کنول
وہ ابرِ بے نیاز، جو برسا کبھی نہیں
مَیں کاروانِ شَوق سے بِچھڑا تھا ایک بار
پھر منزلِ یقِین پہ پُہنچا کبھی نہیں
جعفر! کسی چراغ کے پہلو میں بیٹھ کر
اِک پَل بھی اپنے عکس کو دیکھا کبھی نہیں
جعفر علی جعفر