The author is a lecturer of philosophy whose philosophico-poetic temperament and traditionally religious, mystical sensibility inform meditative reflections on theology, literature, psychology, and cinema.
03-01-2026
انسان ایک نہایت پیچیدہ اور تہدار وجود ہے اور انسان نے ہی ان پیچیدگیوں اور تہداریوں کو جامع اظہار پہنانے کی تاریخ میں طرح طرح سے کاوشیں کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب موضوع انسان ہو تو فنون کا تجزیہ و تحلیل بھی طرح طرح کے زاویوں سے کیا جاتا ہے۔ خاص کر جب افسانہ، ناول، شاعری، فلم وغیرہ میں human conditions کو اظہار کی زینت بخشی جاتی ہے تو متنوع قسم کی تحقیقاتی نکات فن پارے میں سے دریافت کئے جاتے ہیں۔ سماجی و سیاسی صورتحال، معاشی مسائل، انفرادی و اجتماعی اقدار، تاریخی واقعیت، کرداروں کی گہری احساساتی و جذباتی پیچیدگیاں، انسان اور معاشرے کا ربط، اخلاقی مخمصے، خیر و شر کی کشمکش، بڑے تقدیری سوالات کا وجودی بیان وغیرہ وغیرہ یہ سب فنکار کی فنکارانہ صلاحیتوں کا ہدف بنتے رہتے ہیں۔ اصل میں کرداروں کے باطن کا گہرا مطالعہ اور اسی سے عہد کے نفسیاتی رحجانات کا حسی فہم حاصل کرنا ان فنون کا ایک اہم سنجیدہ مقصد ہوتا ہے۔ ان سب تکنیکی و ماہرانہ مباحث میں ایک اہم نکتہ اکثر و بیشتر نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور وہ ہے فنون کی اخلاقی تاثیر جو غیر شعوری طور پر انسان میں سرایت کرتی ہے۔
ہر انسان اپنی زندگی کے پنجرے میں مقید اور اپنے ذاتی تجربات تک محدود ہوتا ہے، اور یہ انسان پر ایک کونیاتی جبر ہے۔ انسانی نفسیات کی بناوٹ اصلاً خود محور ہوتی ہے۔ انسان جس کائینات میں رہتا ہے وہ اُس سے شروع ہوتی ہے اور اسی پر ختم۔ کائنات میں موجود ہر چیز دراصل انسان کی نفسیات میں بننے والی کائنات کا محض ایک جز ہوتی ہے۔ فلسفیانہ و متکلمانہ لحاظ سے کائنات کی حقیقت جو بھی ہو، نفسیاتی اعتبار سے کائنات کی حقیقت انسان کی اپنی ہی ذات ہوتی ہے۔ اسی طرح دنیا میں موجود دیگر انسان بھی ایک فرد کی نفسیات کے لیے اس کی کائنات میں موجود انسان ہوتے ہیں نا کہ آزادانہ پائے جانے والے وجود۔ اسی لیے ہر انسان دوسرے انسان سے اتنا ہی واقف ہوتا ہے جتنا ایک فرد کے ذاتی مگر محدود تجربات اس شخص کو اپنے حصار میں لے پاتے ہیں۔ ہر انسان دوسرے انسان کو اپنے زاوئیے سے ہی دیکھنے کا عادی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ آپسی تعلق رکھنے کے باوجود بھی تنہا ہونے کے احساس کی زد میں رہتے ہیں۔ جدید دور میں تو یہ صورتحال مزید المیاتی رنگ پکڑتی جا رہی ہے۔ انسانی تعلقات بازاری تعلق کی نفسیات میں ڈھلتے جا رہے ہیں اور حسِ تعلق اپنی حرارت کو کھو رہی ہے۔ نتیجتاً، نفسیاتی آسودگی گزرے ہوئے لوگوں کا قصہ بنتی جا رہی ہے۔
خیر، فنون سے وابستگی انسان کی حسِ تعلق کو زندہ رکھنے کی اخلاقی تاثیر کا کام کرتی ہے۔ فنون کے ذریعے انسان اپنی ذاتی زندگی تک محدود نہیں رہتا۔ مختلف کرداروں کی ذاتی زندگی کا تجربے کی سی کیفیت کے ساتھ شعور، انسان کو اپنے تجربات کے پنجرے سے آزاد کر دیتا ہے۔ ایک زندگی کو جینے کا باوجود بھی کئی زندگیوں کے تجربات کا احساس اسکے اخلاقی شعور میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ اپنی ذاتی زندگی کے تجربات تک محدود انسان اپنے علاوہ سبھی کو غیر دانستہ طور پر غلط شمار کرنے پر عادتاً مجبور ہوتا ہے۔ فنون جب روزمرہ کے عام انسانوں کی زندگیوں اور اسکی پیچیدگیوں کو کھولتے ہیں تو بظاہراً غلطی پر دکھنے والا شخص بھی برا محسوس نہیں ہوتا۔ دراصل، فنون ہمیں بتاتے ہیں کہ زندگی میں کوئی بھی شخص شاید برا نہیں ہوتا، انسان فقط مجبور ہوتا ہے۔ ہر شخص کو اگر اسکے تجربات اور ان سے پیدا ہونے والی نفسیاتی کیفیات کی روشنی میں دیکھا جائے تو شاید کوئی بھی شخص نقد و نفرت کے قابل نا لگے۔ زندگی کرنا بحرحال ایک مشکل کام ہے۔ ہر شخص ایک جنگ لڑ رہا ہوتا ہے، مسائل و مصائب تو ظاہری ہوتے ہیں پر اس جنگ کا میدان انسان کے نفس میں سجتا ہے جس سے عموماً لوگ واقف نہیں ہوتے۔ ہر انسان کو یہ گمان گزرتا ہے کہ دوسرا شخص اس کی نفسیات میں آباد دنیا سے واقف ہے اور وہ دوسروں سے امیدیں بھی اسی لحاظ سے وابستہ کرتا ہے اور آخرکار مایوسی کو گلے لگاتا ہے۔ بحرحال، انسان اس میدان میں بے دست و پا تنہا کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے میں لوگوں کی اسکے باطن سے ناآشنائی کے باعث ایک لاتعلقی کی فضا میں ان سے تعلق نبھانا اسے مزید توڑتا چلا جاتا ہے۔ عام زندگی میں گویا انسان attached detachment میں جیتا ہے۔ مگر فنون کے ذریعے انسان detached attachment کا تجربہ کرتا ہے، جس سے انسان اور زندگی کے مابین تعلق کی مختلف پرتوں کا ادراک فرد کے اخلاقی شعور کی گھٹن کو کم کر دیتا ہے۔
زندگی بحرحال ایک المیہ ہے اور انسان ایک کمزور، عیب دار اور خطا کار وجود ہے۔ اپنی زندگی میں مقید انسان خود سے بھی اپنی خامیوں کی پردہ پوشی کرنے کی عادت میں مبتلا رہتا ہے اور بدلے میں دوسروں کو اپنی کوتاہیوں کی خوراک بنانے میں مصروف رہتا ہے۔ آدابِ تعلق میں ایک نہایت اعلیٰ قدر حسنِ ظن رکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے جس سے تعلقات میں تحمل، موافقت اور ہمگدازی پیدا ہوتی ہے۔ دوسروں کے احساسات سے ناواقف انسان سنگدلی کا شکار ہو جاتا ہے اور حسنِ ظن کی قدر سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ایسے میں زندگی کی تلخ حقیقت کو انسان ایک دوسرے کے لیے مزید ناقابلِ برداشت بنا دیتا ہے۔ حسنِ ظن کہتے ہیں کسی دوسرے کے متعلق نیک گمان رکھنے کو۔ خوش گمانی کی شرط اول ہے کہ انسان کو ناتواں متصور کرنا اور حالاتِ زندگی کے ہاتھوں مجبور محسوس کرنا۔ انسان چونکہ ایک اخلاقی وجود ہے اس لیے خیر و شر کی مستقل کشاکش کے ماحول میں رہتا ہے۔ ہر انسان پر کمزور لمحات آتے ہیں۔ کوئی بھی انسان مستقل شخصی قوت اور کردار کی مضبوطی باہم نہیں پہنچا سکتا۔ انسانی تعلقات میں حسن افراد کے کامل ہونے سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کی خامیوں کو اپنانے اور نفسیاتی الجھنوں کو محسوس کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ فنون سے سنجیدہ اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ وابستگی، انسان کے اخلاقی شعور میں ایسی فطری گنجائش پیدا کرتی ہے جو حسنِ ظن رکھنے کے قابل بناتی ہے۔
کسی بھی دوسری چیز سے بڑھ کر, انسان انسان کی ایک وجودی ضرورت ہے جو آپسی چاہت بھی رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کو مکمل تر بھی کرتے ہیں۔ مگر انسانوں کے مابین تعلق ایک معمہ ہے۔ یہ ایک دوسرے کے لیے راحت کا سامان بھی رکھتے ہیں مگر چاہتے نا چاہتے ہوۓ اپنے چاہنے والوں کے لیے رنج کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ایک انسان کی خامی و کوتاہی دوسرے انسان میں وقتاً فوقتاً حسرت کا مؤجب بنتی ہی رہتی ہے۔ یہ جلدبازی بھی سنگدلی کا ہی نتیجہ ہے۔ حسنِ ظن مؤثر ہو تو ایک شخص کے کمزور لمحات میں اس سے ہمدردی میں اضافہ ہوتا ہے نا کہ تعلق میں ضعف کا باعث بنتا ہے۔ سرمایہ دارانہ سماج میں نام نہاد حقیقت پسندی پر بہت زور دیا جاتا ہے مگر انسانی تعلقات میں خیالی مثالیت پسندی کو ہی آدرش بنا لیا گیا ہے۔ اس رویے کے باعث انسانی رشتوں کی نامیاتی وحدت مجروح ہو گئی ہے اور لوگوں نے خود پر سے اصلاحی نظریں ہٹا کر متعلقہ شخص کی عیب گیری کرنے کو اپنی خامی چھپانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
انسانی رشتوں میں حقیقت پسندی کا پہلا باب نفسِ انسان کو ایک شگاف زدہ پیراہن سمجھنے کا ہے۔ اپنے پورے وجود کو تسلیم کر کے اس میں موجود گراوٹوں کو اپنانے سے تعلق کے آداب کا سبق شروع ہوتا ہے۔ آئینہ دکھا کر فنون اس میں بھی مدد کرتے ہیں۔ اسی طرح اپنے سے متعلقہ لوگوں کی شخصی محرومیوں، خامیوں اور کمزوریوں کو اپنانے سے حقوق ادا کر سکنے کی شروعات ہوتی ہے۔ نا دانستہ اور مجبوراً ہو جانے والی غلطیوں پر تعلق ہچکولے کھانے لگے تو یہ کہاں کی حقیقت پسندی ہے۔ کیا کسی نے ایسا گلاب جس میں کانٹیں نا ہوں، کبھی دیکھا ہے؟ جس چمن میں گُل و خار ساتھ ساتھ نا ہوں وہ گلستان نہیں دشتِ صحرا کا پُرفریب نخلستان ہی ہو سکتا ہے جس کا کوئی وجود سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس عالمِ ناتمام میں آرزو اور حسرت کا پیچھا سراب کو مسکن بنانے کے مترادف ہے۔ چونکہ انسانی وجود ایک مسلسل شہیدِ آرزو ہے اور زندگی ایک مستقل داستانِ حسرت، اسی لیے تعلقات میں در آنے والی ناگواریوں پر تحمل، تعلق کا پہلا ادب ہے۔ اس ادب کو ملحوظِ خاطر رکھے بغیر تعلق میں پنہا حسین گہرائیوں کی تہہ میں موجود گوہرِ نایاب تک رسائی ممکن نہیں، وہ گوہر جسے محبت کہتے ہیں۔ مذید یہ کہ صرف ایسا نہیں ہے کہ خار بغیر گُل کے ادھورا اور گلستان نامکمل ہوتا ہے۔ ہم ذرا غور سے دیکھیں تو گُلِ بے خار کو ناقص نہیں بدصورت پائیں گے۔ ایک مکمل فطری انسان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اول تو یہ ممکن ہی نہیں لیکن اگر کوئی انسان بے نقص ہو تو پھر وہ حسین نہیں رہتا۔ دل کے لیے حسین تو ہوتا ہی وہ ہے جس میں نقص ہوتے ہوئے بھی محبت میں وہ نقص مانع نا ہو۔ ایک بیدار دل جانتا ہے کہ گلاب کی کلیوں کا حسن کانٹوں کے وجود سے قائم ہوتا ہے۔ آج تک کوئی گلاب محض کلیوں کے ساتھ خوبصورت نہیں لگا۔ ایک آدھ پُرخار ڈالی پر لگا ہوا گلاب ہی آنکھوں کو بھاتا ہے۔ کانٹا اگر چبھ بھی جائے تو یہ کلیوں کو مزید پر کشش بنا دیتا ہے۔ وہ گُل، گُل ہی کیا جس کی نکہت و رخسار کانٹوں کی چبھن کو بے اثر نا کر پاۓ۔ تعلق میں حسن و کمال انسانوں کے کامل ہونے سے نہیں بلکہ تعلق میں مخلص اور صادق ہونے سے مشروط ہے۔
ایرانی فلمساز اصغر فرھادی کی ڈرامہ صنف کی آسکر آوارڈ یافتہ یہ فلمز مختلف نفسیاتی تجربات اور تعلقات میں بے گانگی کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔ ان میں بحث میں لائے گۓ متنوع مضامین، مسائل، سماجی و سیاسی تبدیلیاں، جدت و روایت کا امتزاج، کرداروں میں آنے والی بتدریج تبدیلی اور دیگر تکنیکی و تحقیق نکات کی اہمیت اپنی جگہ مگر سب سے اہم بات ان دونوں real life tragedies میں یہ تھی کہ تقریباً سارے کردار ہی کہیں نا کہیں غلطی پر تھے مگر کسی ایک کو بھی برا کہا جا سکنا ممکن نہیں۔ ہر شخص کہیں نا کہیں اپنے ذاتی نفسیاتی الجھنوں کے ہاتھوں مجبور دکھائی دیا، اپنی اخلاقی کمزوریوں کو خود تسلیم کرنے سے غافل اور ایک دوسرے کے ان کیفیات کو محسوس کر سکنے میں بھی ناکام۔ یہی غفلت آخر تک برقرار رہتی ہے اور فاصلے مذید بڑھتے جاتے ہیں۔ کسی ایک لمحے میں اگر کوئی بھی تھوڑا رک کر معاملہ کرتا تو نتائج مختلف نکلتے۔ انسانی تعلقات میں ایسا غیر ارادی اور بدنیتی کے بغیر آنے والا ضعف ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہے۔ صرف یہ کہ ہم تحمل اور ٹھہراؤ کو ترجیح نہیں دیتے، اپنی کمزوریوں کو تسلیم اور دوسرے کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اس لیے ہم انسانی رشتوں سے حاصل ہونے والی طمانیت سے محروم رہتے ہیں۔
و الله اعلم
Glimpses of academic award winning pictures of Iranian auteur, Asghar Farhadi.
A Separation 2011 and
The Salesman 2016